بلاشبہ سائنس نے ہم کو بہت سی نئ باتیں بتائ ہیں، مگر مذہب جس سوال کا جواب ہے، اس کا ان دریافتوں سے کوئی تعلق نہیں، اس قسم کی دریافتیں اگر موجودہ مقدار کے مقابلے میں اربوں کھربوں گنا بڑھ جائیں، جب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی کیونکہ یہ دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کو بتاتی ہیں، یہ واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور ان کا آخری سبب کیا ہے اس کا جواب ان دریافتوں کے اندر نہیں ہے، یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح ہیں، جبکہ مذہب کی جگہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری اور کلی تشریح دریافت کر لے، اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی مشین کے اوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے، اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہر کا چکر کس طرح ایک اور چکر سے چل رہا ہے، اور وہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہو سکتا ہے ک ہم اسکے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت دیکھ لیں، مگر کیا اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے مشین کے خالق اور اس کے سبب حرکت کا راز بھی معلوم کر لیا، یا کسی مشین کی کارکردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود بن گئی ہے اور اپنے آ...